ایران میں احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرنے والے نوجوان کو پھانسی دیدی گئی
Featured Latest Update- Est 0 min
- 0 Views
- 2 weeks ago
ایرانی عدالت نے مزید 2 سیاسی قیدیوں کو سزائے موت سنائی تھی جس پر عمل درآمد ہو گیا ہے
International Update- Est 0 min
- 0 Views
- 1 month ago
Top 10 News
اللہ گواہ میری عنایہ کو پرائیویٹ ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر نےغلط انجنکشن لگا کر میرے پھول کو مار دیا
ایران میں احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرنے والے نوجوان کو پھانسی دیدی گئی
ایرانی عدالت نے مزید 2 سیاسی قیدیوں کو سزائے موت سنائی تھی جس پر عمل درآمد ہو گیا ہے
اس عظیم انسان بارے کوئی ایک جملہ
ایران کے سرکاری میڈیا نے تصدیق کر دی ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے ہیں
میرپور کی تاریخ میں پہلی بار فیکٹری ملازمین کو فوری ریلیف کمشنر میرپور ڈاکٹر راجہ صداقت
سابق وزیر اعظم وصدر آزاد کشمیر بیرسٹرسلطان محمود چوہدری کی نماز جنازہ
Sport
News
Recent
Posts
اللہ گواہ میری عنایہ کو پرائیویٹ ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر نےغلط انجنکشن لگا کر میرے پھول کو مار دیا
اللہ گواہ میری عنایہ کو پرائیویٹ ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر نےغلط انجنکشن لگا کر میرے پھول کو مار دیا لیکن میرے رب کا فیصلہ تھا آج میری عنایہ کی رات قبر میں تھی میں نے اپنی بیٹی کے لے خاموشی سے معاف کیا آپ میری عنایہ کے لے اور میرے صبر کے لے دعا کرنا میرا پھول چلا گیا اللہ پاک ان ڈاکٹروں کو ہدایت دے۔میری بیٹی کو غلط ٹیکا لگا کر مجھے اور میری فیملی کو ساری ذندگی کے رونا دےدیا۔
نصیر اکبر چودھری
ایران میں احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرنے والے نوجوان کو پھانسی دیدی گئی
- ایران کی عدالت نے جنوری میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کی قیادت کرنے والے نوجوان کو عرفان کیانی کو سزائے موت سنائی تھی۔
- ایرانی عدلیہ کے سرکاری خبر رساں ادارے “میزان” کے مطابق عرفان کیانی کو شہر اصفہان میں پھانسی دی گئی جب ملک کی اعلیٰ عدالت نے اس کی سزا برقرار رکھی۔
- عرفان کیانی پر سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے، آگ لگانے، سڑکیں بلاک کرنے اور مظاہروں کے دوران اسلحہ استعمال کرنے کے الزامات تھے۔
- ایرانی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کیانی اسرائیلی انٹیلی جنس کا ایجنٹ تھا تاہم اس الزام کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔
- واضح رہے کہ جنوری میں ہونے والے ان مظاہروں کو ایرانی سکیورٹی فورسز نے سختی سے کچل
- دیا تھا، جس کے دوران ہزاروں افراد کے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
یران میں حکومت مخالف مظاہرے کے دوران گرفتار ہونے والے ایک نوجوان کو پھانسی دے دی گئی ہے۔
ایرانی عدلیہ سے منسلک نیوز ایجنسی ’میزان‘ نے بتایا کہ فہیم، امیر حسین حاتمی، محمد امین گلاری اور شاہین واحدی کے ہمراہ شریک ملزم تھے جنپیں گزشتہ دنوں پھانسی دی گئی۔
علی فہیم پر الزام تھا کہ وہ جنوری میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ملکی سلامتی کے خلاف کارروائیوں میں عملی طور پر ملوث تھے۔ فہیم پر یہ بھی الزام ہے کہ اُنھوں نے ایک فوجی عمارت میں داخل ہو کر اسلحہ اور بارود نکالنے اور عمارت کو آگ لگانے کی کوشش کی۔
’میزان‘ نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی سپریم کورٹ نے بھی علی فہیم کو سزائے موت دینے کی توثیق کی تھی۔
بی بی سی کے مطابق علی فہیم کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ واقعے سے متعلق رپورٹس اور ویڈیوز سے پتا چلتا ہے کہ ان افراد کا عمارت کو آگ لگانے یا اسے تباہ کرنے میں کوئی کردار نہیں تھا۔
اُن کے بقول یہ افراد اُس وقت عمارت میں داخل ہوئے جب اسے پہلے ہی آگ لگائی جا چکی تھی۔

