Kotli’s Kashif Mahmood Earns Prestigious Honor Representing Pakistan
Featured Sport- Est 1 min
- 0 Views
- 4 weeks ago
پیشہ ورانہ صلاحیتوں، دیانتداری اور عوام دوست رویے کی بدولت محکمہ پولیس
Update- Est 1 min
- 0 Views
- 5 months ago
ایس ایس پی باغ سید عباس علی نے اپنے آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ,
Update- Est 1 min
- 0 Views
- 5 months ago
اللہ گواہ میری عنایہ کو پرائیویٹ ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر نےغلط انجنکشن لگا کر میرے پھول کو مار دیا
Latest- Est 0 min
- 0 Views
- 5 months ago
ایران میں احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرنے والے نوجوان کو پھانسی دیدی گئی
Featured Latest Update- Est 0 min
- 0 Views
- 6 months ago
Top 10 News
اقرار الحسن کو گرفتار کرنے کی تردید
اللہ گواہ میری عنایہ کو پرائیویٹ ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر نےغلط انجنکشن لگا کر میرے پھول کو مار دیا
ایران میں احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرنے والے نوجوان کو پھانسی دیدی گئی
ایرانی عدالت نے مزید 2 سیاسی قیدیوں کو سزائے موت سنائی تھی جس پر عمل درآمد ہو گیا ہے
اس عظیم انسان بارے کوئی ایک جملہ
ایران کے سرکاری میڈیا نے تصدیق کر دی ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے ہیں
میرپور کی تاریخ میں پہلی بار فیکٹری ملازمین کو فوری ریلیف کمشنر میرپور ڈاکٹر راجہ صداقت
سابق وزیر اعظم وصدر آزاد کشمیر بیرسٹرسلطان محمود چوہدری کی نماز جنازہ
Sport
News
Kotli’s Kashif Mahmood Earns Prestigious Honor Representing Pakistan
Featured Sport- Est 1 min
- 0 Views
- 4 weeks ago
Recent
Posts
اقرار الحسن کو گرفتار کرنے کی تردید
،تصویر کا ذریعہSocial Media
نیشنل سائبر کرائمز انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے سیاسی جماعت عوام راج تحریک کے سربراہ اور اینکر پرسن اقرار الحسن کو گرفتار کرنے کی تردید کی ہے۔
این سی سی آئی اے حکام نے جوڈیشل مجسٹریٹ کو آگاہ کیا ہے کہ اقرار الحسن ان کی تحویل میں نہیں ہیں۔
دوسری جانب اقرار الحسن کے وکیل میاں علی اشفاق نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقرار الحسن کی بازیابی کے لیے حبسِ بے جا کی درخواست دائر کی جا رہی ہے۔
اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار نے دعویٰ کیا تھا کہ نا معلوم افراد اتوار اور سوموار کی درمیانی شب، تقریباً تین بجے، لاہور میں ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ان کے شوہر کو ’اغوا کر کے لے گئے۔‘
فیس بک پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں فرح کا کہنا تھا کہ اِن افراد کے ساتھ خواتین بھی موجود تھیں، جن کے بازوؤں پر انھوں نے ’این سی سی آئی اے‘ لکھا ہوا دیکھا تھا۔
بی بی سی کی لاہور میں موجود نامہ نگار ترہب اصغر سے گفتگو میں فرح اقرار نے بتایا تھا کہ وہ اقرار الحسن کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے این سی سی آئی اے کے دفتر بھی گئی تھیں، تاہم انھیں بتایا گیا کہ متعلقہ عملہ اس وقت موجود نہیں اور وہ صبح 10 بجے دفتر کھلنے کے بعد آئیں۔
ان کے مطابق، اس کے بعد لاہور کے تھانہ ڈیفنس میں ایف آئی آر (فرسٹ انفارمیشن رپورٹ) درج کرانے کی کوشش کی گئی لیکن وہاں بھی ان کی درخواست وصول نہیں کی گئی
اللہ گواہ میری عنایہ کو پرائیویٹ ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر نےغلط انجنکشن لگا کر میرے پھول کو مار دیا
اللہ گواہ میری عنایہ کو پرائیویٹ ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر نےغلط انجنکشن لگا کر میرے پھول کو مار دیا لیکن میرے رب کا فیصلہ تھا آج میری عنایہ کی رات قبر میں تھی میں نے اپنی بیٹی کے لے خاموشی سے معاف کیا آپ میری عنایہ کے لے اور میرے صبر کے لے دعا کرنا میرا پھول چلا گیا اللہ پاک ان ڈاکٹروں کو ہدایت دے۔میری بیٹی کو غلط ٹیکا لگا کر مجھے اور میری فیملی کو ساری ذندگی کے رونا دےدیا۔
نصیر اکبر چودھری
ایران میں احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرنے والے نوجوان کو پھانسی دیدی گئی
- ایران کی عدالت نے جنوری میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کی قیادت کرنے والے نوجوان کو عرفان کیانی کو سزائے موت سنائی تھی۔
- ایرانی عدلیہ کے سرکاری خبر رساں ادارے “میزان” کے مطابق عرفان کیانی کو شہر اصفہان میں پھانسی دی گئی جب ملک کی اعلیٰ عدالت نے اس کی سزا برقرار رکھی۔
- عرفان کیانی پر سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے، آگ لگانے، سڑکیں بلاک کرنے اور مظاہروں کے دوران اسلحہ استعمال کرنے کے الزامات تھے۔
- ایرانی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کیانی اسرائیلی انٹیلی جنس کا ایجنٹ تھا تاہم اس الزام کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔
- واضح رہے کہ جنوری میں ہونے والے ان مظاہروں کو ایرانی سکیورٹی فورسز نے سختی سے کچل
- دیا تھا، جس کے دوران ہزاروں افراد کے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
یران میں حکومت مخالف مظاہرے کے دوران گرفتار ہونے والے ایک نوجوان کو پھانسی دے دی گئی ہے۔
ایرانی عدلیہ سے منسلک نیوز ایجنسی ’میزان‘ نے بتایا کہ فہیم، امیر حسین حاتمی، محمد امین گلاری اور شاہین واحدی کے ہمراہ شریک ملزم تھے جنپیں گزشتہ دنوں پھانسی دی گئی۔
علی فہیم پر الزام تھا کہ وہ جنوری میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ملکی سلامتی کے خلاف کارروائیوں میں عملی طور پر ملوث تھے۔ فہیم پر یہ بھی الزام ہے کہ اُنھوں نے ایک فوجی عمارت میں داخل ہو کر اسلحہ اور بارود نکالنے اور عمارت کو آگ لگانے کی کوشش کی۔
’میزان‘ نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی سپریم کورٹ نے بھی علی فہیم کو سزائے موت دینے کی توثیق کی تھی۔
بی بی سی کے مطابق علی فہیم کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ واقعے سے متعلق رپورٹس اور ویڈیوز سے پتا چلتا ہے کہ ان افراد کا عمارت کو آگ لگانے یا اسے تباہ کرنے میں کوئی کردار نہیں تھا۔
اُن کے بقول یہ افراد اُس وقت عمارت میں داخل ہوئے جب اسے پہلے ہی آگ لگائی جا چکی تھی۔

